دعا منگی کی رہائی کیلئے ڈھائی لاکھ ڈالرز تاوان کا مطالبہ

کراچی کے  پوش علاقے ڈیفنس سے 5 روز قبل فائرنگ کے بعد اغوا کی گئی طالبہ دعا منگی کی رہائی کے لیے ملزمان نے ڈھائی لاکھ ڈالرز تاوان کا مطالبہ کر دیا۔

ذرائع کے مطابق اغوا کار دعا منگی کے اہل خانہ سے انٹرنیٹ کے ذریعے واٹس ایپ پر رابطہ کر  رہے ہیں اور گزشتہ 3 روز کے دوران واٹس ایپ پر تین مرتبہ کال کر چکے ہیں۔

ذرائع  نے بتایا کہ  اغواکاروں کی جانب سے آخری رابطہ بدھ کی دوپہر 2 بج کر 20 منٹ پر کیا گیا تھا اور وہ دعا منگی کی رہائی کے لیے ڈھائی لاکھ ڈالرز کی ادائیگی کے مطالبے پر بضد تھے۔

ذرائع کے مطابق سندھ پولیس کے مختلف شعبوں کے ساتھ ملکی حساس ادارے بھی ملزمان کے سراغ میں مصروف ہیں۔

دوسری جانب دعا منگی کے ماموں اعجاز منگی نے  بتایا کہ گھر والے بہت تشویش میں مبتلا ہیں، ہم ابھی تک بند گلی میں کھڑے ہیں کیونکہ پولیس کی طرف سے قابل اطمینان پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ بسمہ کے اغوا کار گرفتار ہو چکے ہوتے تو شاید دعا اغوا نہ ہوتی، اندازہ ہوا ہے کہ دعا کا اغوا بسمہ کے اغوا کا تسلسل ہے۔

19 سالہ طالبہ دعا منگی کو 30 نومبر کی رات 10 بجے ڈیفنس فیز 6 کے علاقے بڑا بخاری کے ریسٹورنٹ کے باہر سے اغوا کیا گیا تھا اور ان کے ساتھی حارث سومرو کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔

دعا منگی کی بازیابی کے لیے تین تلوار پر مظاہرے بھی کیے گئے جس میں دعا کے اہل خانہ، تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی، ایم کیو ایم تنظیمی بحالی کمیٹی کے سربراہ فاروق ستار اور سماجی رہنما جبران ناصر سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنما شریک ہوئے تھے۔

احتجاجی مظاہرے میں شریک دعا کی بہن لیلیٰ منگی کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد سے گھر والے صدمے کی کیفیت میں ہیں، انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کی بہن کو جلد ازجلد بازیاب کرایا جائے۔

دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے دعا منگی اغواء کیس میں شواہد ملنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن کیس میں حکومت کی ناکامی کا اعتراف بھی کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیس میں پولیس کو کچھ شواہد ملے ہیں لیکن میڈیا کے سامنے نہیں لاسکتے، پولیس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملزم پکڑے جانے اور لڑکی کی بازیابی تک حکومت مطمئن نہیں ہوگی۔