ڈی جی ایف آئی اے کے معاملے میں میرا کردار نہیں: علی زیدی

وفاقی وزیر علی زیدی نے بشیر میمن کے ہٹائے جانے میں اپنا ہاتھ ہونے کی تردید کی ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے عہدے سے ہٹانے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے سروس سے استعفا دے دیا اور کہا کہ اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ نوکری سے مستعفی ہوجاؤں۔

ذرائع کا کہناہے کہ بشیر میمن پر اپوزیشن ارکان کے خلاف مقدمات قائم کرنےکے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور انکار پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

پروگرام ‘آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ’ کے مطابق اعلیٰ حکومتی شخصیات بشیرمیمن پر کئی ماہ سے اپوزیشن ارکان کے خلاف مقدمات قائم کرنے کے لیئے دباؤ ڈال رہی تھیں اور بات نہ ماننے پر بشیر میمن کو پہلے زبردستی چھٹی پر بھیجا گیا اور پھر ان کی ریٹائرمنٹ سے کچھ دن پہلے انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

اس سے پہلے ذرائع کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے واپسی پر علی زیدی نے ایف آئی اے کے کام میں مداخلت کی اور بعد میں وزیراعظم سے شکایت کر ڈالی، جس پر ڈی جی ایف آئی اے کا تبادلہ کردیا گیا۔

تاہم وفاقی وزیر علی زیدی نے بشیر میمن کے ہٹائے جانے میں اپنا ہاتھ ہونے کی تردید کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایف آئی اے کے کسی بندے کو کچھ نہیں کہا، جو ویڈیو وائرل ہوئی وہ سی سی ٹی وی ویڈیو ہے، جو ایف آئی اے سے نکلی ہوئی ہے۔

علی زیدی نے کہا کہ وہ جب دبئی سے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے تو ہزاروں لوگ امیگریشن کاؤنٹر پر کھڑے تھے، ان کے لیے الگ سے کاؤنٹر کھولا گیا تو انہوں نے کہا کہ باقی لوگوں کو بھی یہاں لائن میں لگنے دیں، ایئرپورٹ پر لوگوں نے ان سے امیگریشن کی شکایت بھی کی۔