امریکا مشرق وسطیٰ کی ’خون آلود مٹی’ کو چھوڑ دے گا: ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کو خون آلود مٹی قرار دیتے ہوئے خطے سے نکلنے کا عہد کیا ہے۔

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا مشرقی وسطیٰ کی خون آلود مٹی کو چھوڑ دے گا۔

امریکی صدر نے مشرقی وسطیٰ سے تعلقات کی نوعیت بھی تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی وسطیٰ میں بہت امریکی سروس کے ممبران مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو اب مزید دنیا کے پولیس مین کے طور پر رہنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم باہر نکل رہے ہیں اور اب کسی اور کو اس خون آمیز زمین پر لڑنے دیں، ہماری فوج کی نوکری دنیا کی پولیس کی نہیں ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دیگر اقوام لازمی آگے آئیں اور اپنے حصے کے مطابق کام کریں، میں مختلف طریقے کے انتخاب پر قائم ہوں جو امریکا کو کامیاب کرسکیں۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ شام سے بڑے پیمانے پر انخلا کے باوجود کچھ فوجی دستے شام کی آئل تنصیبات پر موجود رہیں گےکیونکہ ہم نے تیل کو محفوظ کردیا ہے اور اسی لیے امریکی افواج کی کم تعداد ایسے علاقوں میں موجود رہے گی جہاں پر تیل موجود ہے۔

یاد رہے کہ ترکی کی جانب سے شمالی شام میں 9 اکتوبر سے کرد باغیوں کے خلاف بہارِ امن ’پیس اسپرنگ‘ کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا ۔

ترکی اپنی سرحد سے متصل 32 کلو میٹر تک کے شامی علاقے کو محفوظ بنا کر ترکی میں موجود کم و بیش 20 لاکھ سے زائد شامی مہاجرین کو وہاں ٹھہرانا چاہتا ہے اور ترکی کا مطالبہ ہےکہ کرد ملیشیا شمالی شام کی 32 کلو میٹر کی حدود سے باہر چلی جائے اور یہ علاقہ ’سیف زون‘ کہلا سکے۔

معلوم رہے کہ کرد ملیشیا آزاد ملک کے قیام کیلئے سرگرم ہے، عراق میں کردستان کے نام سے ایک خودمختار علاقہ کردوں کو دیا گیا ہے تاہم وہ شام اور ترکی کے کچھ علاقوں کو بھی کردستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں جبکہ ترکی کرد ملیشیا کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق سیز فائر معاہدے کے تحت روس اور شام کرد ملیشیا کو سرحدی علاقے سے نکالنے میں سہولت کاری فراہم کریں گے۔

روس نے کرد ملیشیا کو خبردار کیا ہےکہ وہ ترکی اور شام کے سرحدی علاقے سے فوری انخلا کریں بصورت دیگر ترک فوجیں انہیں ختم کردیں گی۔