گوگل کے سابق انجینئر کو چوری کے الزام میں 18 ماہ قید کی سزا

گوگل کے سابق انجینئر کو چوری کے الزام میں 18 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق گوگل سیلف ڈرائیونگ کار یونٹ کے سابق انجینئر کو خفیہ معلومات چرانے پر 18 ماہ کی سزا سنائی گئی ہے جو انہیں اوبر کمپنی کو جوائن کرنے کے کچھ دن بعد ہی سنائی گئی۔

سان فرانسسکو کی عدالت کے جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گوگل کے سابق انجینئر اینتھونی لیوانڈوسکی نے بڑا کاروباری جرم کیا جو انہوں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق سابق انجینئر اینتھونی نے 2016 میں گوگل کو خیرباد کہنے سے قبل اپنے لیپ ٹاپ میں گوگل کی 14 ہزار فائلیں خفیہ طور پر لوڈ کیں جب کہ انہوں نے اوبر کے روبو کار پراجیکٹ کی بھی سربراہی کی اور انہیں اس کیس کی وجہ سے 2017 میں ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق اینتھونی لیوانڈوسکی نے رواں سال مارچ میں دیوالیہ پن کی درخواست دائر کی کیونکہ انہیں اپنے غیر قانونی عمل پر گوگل کی کمپنی کو 179 ملین ڈالر ادا کرنے ہیں۔

برطانوی میڈیا کا بتانا ہےکہ اینتھونی لیوانڈوسکی گوگل کے سیلف ڈرائیونگ پراجیکٹ کے بانی ممبران میں سے تھے جب کہ یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہےکہ انہیں اپنی سزا کے 12 ماہ گھر میں قید تنہائی میں گزارنا پڑیں۔