ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا دنیا کی پہلی حافظ قرآن

عزائم پختہ اور لگن سچی ہو تو دنیا کی کوئی مشکل انسان کے مقاصد کی تکمیل کے آڑے نہیں آسکتی۔

اردن سے تعلق رکھنے والی ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا راون دیوائیک نامی لڑکی ایک ایسی ہی مثال ہے جو ڈاؤن سنڈروم جیسی جینیاتی بیماری کے ساتھ پیدا ہوئی لیکن اس کے باوجود راون قرآن حفظ کرکے  دنیا کی پہلی ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا حافظ قرآن بن گئی ہیں۔

راون کی والدہ اواطیف جابر کا ترکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ راون کے والد فوت ہوچکے ہیں اور مجھے ان کی والدہ ہونے پر فخر ہے۔

اواطیف کے مطابق راون ایک ایسے مرض میں مبتلا ہیں جو ان کے ساتھ زندگی بھر رہے گا لیکن اس کے باوجود راون یہ کہتے نہیں تھکتیں کہ قرآن میری زندگی ہے۔

راون کی والدہ کے مطابق میری 4 بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا،  بیٹا اکیلا ہونے کی وجہ سے بھائی کی دعا کیا کرتا تھا جب ہی خدا نے مجھے راون سے نوازا، راون جب ڈاؤن سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوئی تو میں بھی عام ماں کی طرح پریشان ہوگئی تھی لیکن میں نے خدا کی قسم کھائی تھی کہ میں راون کو قرآن کی تعلیم دوں گی۔

راون نے قرآن حفظ کیسے کیا؟

اواطیف نے بتایا کہ راون بچپن ہی سے ذہین تھی اور جب میں  نے اس کی ذہانت کو محسوس کیا تو قرآن کی چھوٹی چھوٹی سورتیں حفظ کروانا شروع کردیں جو کہ اس نے جلد ہی یاد کرلیں۔

انہوں نے بتایا کہ راون کو میں نے 6 سال کی عمر میں اسکول میں داخل کروایا، وہ ساتویں جماعت میں تھی جب اللہ نے اسے بہتر تلفظ عطا کیا جس سے راون کو سیکھنے کو مدد ملی لیکن اس کے بعد راون نے اسکول جانے سے انکار کردیا، اس کے بعد میں اسے اپنے ساتھ قرآن سینٹر لے جانے لگی اور  جب میں  نے  اس سینٹر سے سورۃ البقرہ کے 4 صفحات یاد کیے اس وقت راون کی استاد نے بتایا کہ وہ اس سورۃ کا پہلا حصہ حفظ کرچکی ہیں۔

راون کی والدہ نے مزید بتایا کہ اس کے بعد ان کی بیٹی نے باقاعدگی سے 7 سال تک قرآن کو حفظ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور گزشتہ رمضان 29 روزے کو  قرآن کا حفظ مکمل کرلیا۔