پی ایس ایل کیلیے پلان بی نہیں بنایا گیا، اسے ملتوی نہیں کرنا چاہیے تھا: شاہد آفریدی

‏پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہےکہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل)  کے لیے پلان بی نہیں بنایا تھا، اس کو ملتوی نہیں کرنا چاہیے تھا۔

لاہور میں‏ شاہد آفریدی فاؤنڈیشن اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی فاؤنڈیشن کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےشاہد آفریدی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پی ایس ایل کو ملتوی نہیں کرنا چاہیے تھا ۔

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان سپر لیگ پاکستان کا بہت بڑا برانڈ ہے، یہ ہماری عزت ہے لیکن جب اتنا بڑا برانڈ ہو تو پھر آپ پلان بی بناتے ہیں لیکن پی سی بی نے کوئی پلان نہیں بنایا ،حالانکہ یہ علم تھا کہ کوویڈ 19 کی صورتحال میں مشکل پیش آ سکتی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ  ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جن کے ٹیسٹ مثبت آئے انہیں قرنطینہ کراتے، تھوڑا  وقفہ ڈالتے پی ایس ایل ملتوی نہ کرتے اور اسے جاری رہنے دیتے ،غیر ملکی کھلاڑیوں کو روکتے جو رک جاتا ٹھیک ورنہ باقیوں کو جانے دیتے لیکن پی ایس ایل کو ملتوی نہیں کرنا چاہیے تھا ۔

قومی ٹیم کی سلیکشن کے حوالے سے سابق کپتان کا کہنا تھا کہ سلیکٹر کوچ اور کپتان مل کر ٹیم  بناتے ہیں ، اب خبریں آ رہی ہیں کہ ان میں اختلافات ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ کمرے کی باتیں باہر نہیں آنی چاہئیں ، باتیں باہر ہونا غلط بات ہے ۔

‏ شاہد آفریدی نے کہا کہ سلیکشن میں سب سے اہم کردار کپتان کا ہوتا ہے کیونکہ اس نے میدان میں ٹیم کھلانا ہوتی ہے ، اس پر بہت دباؤ ہوتا ہے ،اسے میڈیا کے سوالات کے جواب بھی دینا ہوتے ہیں،  بابر اعظم کو آپ نے فیو چر میں ساتھ لیکر چلنا ہے تو اسے پاور بھی دینا ہو گی ،  اس کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔

‏ انہوں نے کہا کہ سلیکشن کے طریقہ کی مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کس بنیاد پر انتخاب ہو رہا ہے، دو دو میچز کھیلنے والوں کو منتخب کیا جا رہا ہے، نسیم شاہ کو موقع دیا گیا، اس کو اور دوسرے بولروں کو بڑے بولروں سے ملایا گیا لیکن اب نسیم شاہ کہیں نظر آرہے ہیں ،جن پر آپ نے انویسٹ کیا پہلے انہیں تو ساتھ لیکر چلیں ۔