پنجاب کا بجٹ مایوس کن اور عوام دشمن ہے: اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز

لاہور: پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے عوام کے لیے مایوس کن قرار دے دیا جب کہ صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کی تقریر کے دوران لیگی رکن عظمی بخاری سیخ پا ہو گئیں۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 گھنٹے 10 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے بجٹ کو عوام دشمن قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، وزیر اعظم اسٹے کے پیچھے مت چھپیں، فارن فنڈنگ کیس، مالم جبہ اور بی آرٹی کی انکوائری کرائیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناقص حکمت عملی سے کورونا وائرس تیزی سے پھیلا، اب 50 ہزار روزانہ ٹیسٹ ہونے چاہئیں۔اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ معیشت نہ سکھائیں ان کی ذاتی معیشت خرا ب ہوئی ہے، اب خانچے اور ٹی ٹیاں بند ہوگئی ہیں، یہ بتائیں کہ چینی کی ملیں کن کی ہیں، 40 میں سے 7 ملیں ان کی ہیں عمران خان کی کوئی مل نہیں اصل میں چینی چور یہ ہیں۔ میاں اسلم اقبال کی تقریر کے دوران مسلم لیگ ن کی عظمیٰ بخاری سیٹ پر کھڑی ہو کر بولنے لگیں اس پر اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے رولنگ دی کہ یہ طریقہ ٹھیک نہیں، ایسا کرنا ہے تو باہر چلی جائیں جس پر عظمیٰ بخاری ایوان سے واک آؤٹ کر گئیں۔ پی پی رکن مخدوم عثمان کا کہنا تھا کہ حکومت عوامی بجٹ پیش نہیں کر سکی اور کورونا کے پیچھے چھپ رہی ہے، حکومت اپوزیشن کے ساتھ بیٹھے اور مسائل کا حل نکالے۔ بعد ازاں ا سپیکر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی دو پہر 2 بجے تک ملتوی کردیا۔