ٹوکیو اولمپکس کے پاکستانی ہیرو طلحہ طالب کی کہانی

ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کے ویٹ لفٹر طلحہ طالب اتوار کو میڈل کے بہت قریب آگئے لیکن صرف دو کلوگرام کے فرق کی وجہ سے وہ ایک یقینی تمغے سے محروم رہ گئے اور طلحہ پانچویں پوزیشن پر آئے۔

طلحہ طالب میڈل تو نہ جیتے لیکن قوم کے دل ضرور جیت لیے۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ طلحہ طالب کے یہاں تک پہنچنے کا طلحہ کا سفر آسان نہ تھا۔

 21 سالہ طلحہ طالب کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ طلحہ طالب نے کامن ویلتھ چیمپئن شپ اور انٹرنیشنل سالیڈاریٹی چیمپئن شپ میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈلز جیتے جب کہ آسٹریلیا میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں بھی شاندار کارکردگی دکھائی۔

اس سال ہونے والی ایشین ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں انہوں نے کانسی کا تمغہ جیتا تھا جس کے بعد انہیں ٹوکیو اولمپکس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔

لیکن طلحہ کو وہ سہولیات میسر نہ تھی جو ان کے مقابل دیگر ویٹ لفٹرز کو میسر رہی ، ان کو ٹریننگ کے لیے نہ کوئی دورہ کرایا گیا نہ کوئی کیمپ ملا۔ ان کے پاس تو وہ سامان بھی نہ تھا جو دیگر ملکوں کے ایتھلیٹس کے پاس تھا۔ مگر طلحہ کے پاس ایک چیز ضرور تھی اور وہ تھا بلند عزم۔

اس لیے طلحہ نے گوجرانوالہ کے ایک اسکول کا احاطہ ہی جم بنادیا۔ حال ہی میں برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں طلحہ نے بتایا تھا کہ کیسے وہ اسکول ختم ہونے کے بعد احاطے میں ٹریننگ کرتے تھے۔

نوجوان ویٹ لفٹر کو ٹوکیو میں بھی وہ سہولت میسر نہ تھی جو دیگر ایتھلیٹس کو رہی۔ ان کے ساتھ اپنا کوچ تک نہ تھا کیوں کہ پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے سربراہ حافظ عمران بٹ بطور منیجر ان کے ساتھ ٹوکیو میں موجود تھے۔ ٹی وی اسکرین پر انہیں فلسطینی کوچ سے مدد لیتے بھی دیکھا گیا تھا۔

طلحہ اور میڈل میں فرق صرف دو کلوگرام کا تھا۔ کاش طلحہ کو وہ تمام سہولیات مل گئی ہوتی کہ جس کے وہ حقدار تھے۔ کاش پاکستان اسپورٹس بورڈ نے تین سال میں ویٹ لفٹرز کےلیے کچھ کیا ہوتا۔ کاش طلحہ کے ساتھ ان کے کوچ موجود ہوتے تو آج شاید ہم میڈل جیت چکے ہوتے۔

طلحہ کی کارکردگی عوام کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور چھوڑ گئی کہ اولمپکس سے قبل اسپورٹس بورڈ نے 44 کروڑ روپے ایتھلیٹس پر خرچ کرنے کی بجائے حکومت کو واپس کیوں کردیئے۔