WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SELECT * FROM YhPGeuvMupviews WHERE user_ip = '3.238.96.184' AND post_id = '4105'

WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SHOW FULL COLUMNS FROM `YhPGeuvMupviews`

’وزیراعظم مارکیٹ سے جاکر خریدیں تو پتہ چلے، سب کچھ پکا پکایا ملتا ہے‘

حکومت کادعوٰی ہے کہ مہنگائی میں اگست 2018 کے مقابلے میں کمی آنا شروع ہو چکی ہے لیکن دوسری طرف ادارہ شماریات کے مطابق اگست 2018 کے مقابلے میں جنوری 2021 میں اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا،  شہری کہتے ہیں کوئی انہیں بھی بتائے کون سی اشیاء سستی ہوئی ہیں ؟

گھریلو خاتون رخسانہ  کہتی ہیں کہ ’وزیراعظم صاحب اور وزراء  مارکیٹ سے جا کر خریدیں تو پتہ چلے نا، سب کچھ پکا پکایا ٹیبل پر مل جاتا ہے ، ان کو کیا‘۔

رخسانہ کے چار بچے ہیں کہتی ہیں ، ضروریات زندگی پوری کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا۔

رخسانہ کی طرح دیگر خواتین بھی روزمرہ کی ضروریات کے حصول کو مشکل ترین ہوتا دیکھتی ہیں۔

اگست 2018 میں آٹا 38 روپے 56 پیسے فی کلو  تھا،اس وقت آٹے کی اوسط فی کلو قیمت 47 روپے ہے، بیف اگست 2018 کےمقابلےمیں جنوری2021میں اوسط100 روپے فی کلومہنگا ہوگیا، مٹن 213 روپے مہنگا ، 782 روپے 49 پیسے سے بڑھ کر اوسط فی کلو قیمت 995 روپے 67 پیسے رہی، دودھ ،دہی کی اوسط فی کلوقیمت بھی 20 روپے بڑھ گئی،

گھی 134روپےفی کلو مہنگا ہوا،  دال مسور 41روپے، دال ماش 106روپے، دال مونگ 118 روپے ، دال مسور 41 روپے، دال چنا 30 روپے فی کلو مہنگی ہوگئی۔

سرخ مرچ کی فی کلوقیمت میں1300روپے سے زائد اضافہ ہوا، اگست 2018 میں سرخ مرچ فی کلو 340 روپے 21 پیسے، جنوری 2021 میں 200 گرام سرخ مرچ پاوڈر 306 روپے 31 پیسے ہو چکی ہے، شہری کہتے ہیں آخرسستاکیاہواہے؟

ماہرین معاشیات کہتے ہیں مہنگائی کی ماہانہ شرح میں کمی آنے کا مطلب اشیاء سستی ہونا نہیں بلکہ مہنگائی کی رفتارمیں کمی آنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں