لاڑکانہ(رپورٹ نادر مائری ) لاڑکانہ میں تاجروں نے کورونا لاک ڈائون کو نظرانداز کرکے دوسرے روز بھی کاروبار کرنے میں مصروف ہوگئے

ضلعی انتظامیہ نے کاروائی کرکے کھلی ہوئی دکانیں بند کروادی، دکانداروں کی اسسٹنٹ کمشنر سے ہاتھہ پائی حملے کی کوشش پر تین دکانداروں پر مقدمہ درج، پولیس نے دو دکانداروں کو گرفتار کرکے لاکپ کردیا، تفصیلات کے مطابق سندھ کے دیگر شہروں کی طرح لاڑکانہ میں بھی دوسرے روز حکومت سندھ کے اعلان کردہ سخت لاک ڈائون کو تاجروں کو نظرانداز کرکے کاروبار کرنے میں مصروف ہوگئے جبکہ اطلاع پر اسسٹنٹ کمشنر لاڑکانہ احمد علی سومرو نے شہر کے ریشم گلی، بندر روڈ سمیت دیگر اہم کاروباری مراکز کا دورہ کرکے کھلی ہوئی دکانیں بند کروادیں اور تاجروں کو ہدایت کی کہ وہ 8 اگست تک اپنا کاروبار مکمل طور پر بند کریں بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی جبکہ شہر کے ریشم گلی میں خواتین اور بچوں کی جانب سے بند دکان میں خریداری پر اسسٹنٹ کمشنر نے اینٹی انکروچمینٹ فورس کے اہلکاروں کے ہمراہ دکان کے تالے تڑوادیئے جس میں سے خواتین اور بچے باہر نکل آئے اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے دکاندار سے معلومات لینے پر دکانداروں کی اسسٹنٹ کمشنر سے ہاتھہ پائی ہوئی جنہوں نے اسسٹنٹ کمشنر پر حملے کی بھی کوشش کی تاہم پولیس نے دو دکانداروں کو گرفتار کرکے تھانہ مارکیٹ پر لاکپ کرکے تین تاجروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، دکانداروں کی گرفتاری کے اطلاع پر متعدد دکاندار تھانے کے باہر پہنچ گئے اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی تاہم پولیس نے دکانداروں کو روک دیا، اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ لاک ڈائون کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں، دکاندار غیرقانونی طور پر دکان میں گاہکوں کو اندر داخل کرکے خرید و فروخت کررہے تھے جن کے خلاف کاروائی کی تو دکانداروں نے مجھ پر حملہ کیا جن کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔