WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SELECT * FROM YhPGeuvMupviews WHERE user_ip = '3.238.96.184' AND post_id = '5010'

WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SHOW FULL COLUMNS FROM `YhPGeuvMupviews`

لائیو: چیئرمین سینیٹ حکومت یا پی ڈی ایم کا؟ ایوانِ بالا میں ووٹنگ کا عمل مکمل

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے ایوانِ بالا میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا ہے تاہم جماعت اسلامی کے ایک سینیٹر مشتاق احمد خان نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا جن کا 5 بجے تک انتظار کیا جارہا ہے۔

سینیٹ کا اجلاس مظفر حسین شاہ کی سربراہی میں ہورہا ہے جس میں ارکان چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کی گئی اور اس ضمن میں جے یو آئی کے رہنما اور پی ڈی ایم کی طرف سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار عبدالغفور حیدری نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا۔

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے اب تک 98 ارکان نے ووٹ کاسٹ کرلیا ہے جبکہ  ارکان کو حرف تہجی کے اعتبار سے ووٹنگ کے لیے بلایا گیا۔

ووٹنگ کے عمل کے دوران جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کا نام دو مرتبہ پکارا گیا لیکن وہ ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں آئے۔

اجلاس کے آغاز پر پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے اراکین کو ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار بتایا اور غلطی کی صورت میں ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے سیکرٹری سینیٹ کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔

پریزائیڈنگ افسر نے کہا کہ موبائل فون، کیمرہ اور کوئی بھی الیکٹرانک ڈیوائس کے ساتھ پولنگ بوتھ میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔

ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد شام 5 بجے کے بعد چیئرمین سینیٹ کے لیے ووٹوں کی گنتی کی جائے گی اور پھر منتخب ہونے والا چیئرمین سینیٹ اپنے عہدے کا حلف لے کر ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع کرائے گا۔

چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا۔

اپوزیشن اتحاد کے پاس 51 ارکان کی اکثریت ہے جب کہ حکومتی اتحاد کے پاس 47 اراکین ہیں اور جماعت اسلامی نے کسی کو بھی ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت نے صادق سنجرانی کے لیے محسن عزیز کو پولنگ ایجنٹ مقرر کیا ہے جب کہ یوسف رضا گیلانی نے فاروق ایچ نائیک اور عبدالغفور حیدری نے کامران مرتضیٰ کو پولنگ ایجنٹ مقرر کیا ہے۔

سینیٹ کے 100 کے ایوان میں 99 سینیٹرز شریک ہوں گے، سابق وزیر خزانہ اور (ن) لیگ کے رہنما اسحاق ڈار سینیٹ کا حلف نہ اٹھانے کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہوسکتے جب کہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔

نومنتخب سینیٹرز نے حلف اٹھالیا

اس سے قبل سینیٹ اجلاس کا آغاز صبح 10 بجے ہوا جس میں پریزائیڈنگ آفیسر مظفر حسین شاہ نے 48 نومنتخب اراکین سینیٹ سے حلف لیا جس کے بعد تمام نو منتخب سینیٹرز نے رول آف ممبر پر دستخط کیے جس کے بعد اجلاس 3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

پولنگ بوتھ سے کیمرہ نکل آیا

چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب  سے قبل پولنگ کی جگہ کیمرے لگے ہونے کا الزام سامنے آیا۔

پی پی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نےد عویٰ کیا کہ سینیٹ الیکشن میں پولنگ بوتھ پر کیمرہ لگا ہوا ہے جب کہ انہوں نے اس حوالے سے ایک تصویر بھی ٹوئٹر پر شیئر کی۔

اپوزیشن نے پولنگ بوتھ میں کیمرہ نکلنے پر پولنگ بوتھ کو ہی اکھاڑ دیا اور شدید احتجاج کیا۔

خیال رہے کہ پی ڈی ایم نے چیئرمین سینیٹ کے لیے یوسف رضا گیلانی اور ڈپٹی چیئرمین کےلیے عبدالغفور حیدری کو نامزد کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مرزا محمد آفریدی کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نامزد کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں