لائیو: وزیر خزانہ شوکت ترین قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کررہے ہیں

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کررہے ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزرا اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی موجود ہیں۔

وفاقی وزیر کی بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان نے اسمبلی میں شور شرابا شروع کردیا۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ وفاقی بجٹ کا حجم 8 ہزار487 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق مالی سال برائے 22-2021 کا بجٹ تقریباً 8 ہزار ارب روپے کا ہے  جس میں ترقیاتی بجٹ کا حجم 900 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جو رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کے مقابلے میں38 فیصد زیادہ ہے۔

ذرائع کے مطابق مجموعی ملکی ترقیاتی بجٹ کا حجم 2 ہزار 105 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، سول گورنمنٹ کے لیے 510 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے جو رواں مالی سال 488 ارب روپے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولیوں کا حجم 5 ہزار 705 ارب روپے رکھا جا رہا ہے، دفاع کے لیے 35 ارب روپے اضافے کے ساتھ ایک ہزار 330 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ، رواں سال دفاعی بجٹ کا حجم ایک ہزار 295 ارب روپے تھا۔

قرض اور اس پر سود کی مد میں ادائیگیوں کے لیے 3 ہزار 105 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، رواں سال اس مد میں 2 ہزار 920 ارب روپے رکھے گئے تھے۔

ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن کے لیے 10 ارب اضافے کے ساتھ 480 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، مختلف شعبوں کے لیے سبسڈی کی مد میں 501 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، رواں سال اس مد میں 400 ارب روپے مختص تھے، سبسڈی کا 30 فیصد پاور سیکٹر کے لیے ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں چاروں صوبوں،گلگت بلتستان اور مختلف وفاقی اداروں کے لیے 994 ارب روپے کی گرانٹس جاری کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق فیصلہ بجٹ پیش کیے جانے سے پہلے کابینہ اجلاس میں ہو گا۔