قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ، ڈپٹی اسپیکر نے پی پی رکن کو ایوان سے نکال دیا

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جس پر  ڈپٹی اسپیکر نے پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ کو ایوان سے نکال دیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی سربراہی میں ہوا جس کے آغاز پر کورم کی نشاندہی کی گئی  جس کےبعد اجلاس کچھ دیر رکنے کے بعد دوبارہ شروع کیا گیا۔

دورانِ اجلاس پیپلزپارٹی کے آغا رفیع اللہ نے نقطہ اعتراض پر بولنے کی کوشش کی جس پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے انہیں مائیک دینے سے انکار کردیا جس پر آغا رفیع نے احتجاج کیا۔

آغا رفیع کے احتجاج پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی ان سے تلخ کلامی ہوگئی جس پر قاسم سوری نے کہا کہ میں آپ کو وارننگ دے رہا ہوں، آپ کو ایوان سے نکال دوں گا آپ آرام سے بیٹھیں۔

بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر نے آغا رفیع اللہ کو ایوان سے نکالنے کا حکم دیا اور سارجنٹ ایٹ آرمز کو انہیں نکالنے کی ہدایت کی۔

اس معاملے پر پیپلز پارٹی کےرہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ڈپٹی اسپیکر سے معذرت کی اور رولنگ واپس لینے کی اپیل کی جس پر قاسم سوری نے معذرت قبول کرنے سے بھی انکار کردیا اور کہا کہ آغا رفیع باہر چلے جائیں اور پھر واپس آجائیں ایسے معاملہ ختم نہیں ہوگا۔

قاسم سوری نے کہا کہ آغا رفیع پورے سیشن میں ایوان میں نہیں آسکتے، یہ ایوان کی کارروائی میں بہت مداخلت کرنے لگ گئے ہیں اور بہت بدتمیزی کرتے ہیں۔

ڈپٹی اسپیکر کے حکم پر آغا رفیع اللہ تین منٹ باہر رہنے کے بعد پھر ایوان میں واپس آگئے۔