WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SELECT * FROM YhPGeuvMupviews WHERE user_ip = '3.238.235.155' AND post_id = '1329'

WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SHOW FULL COLUMNS FROM `YhPGeuvMupviews`

عبدالمجید اچکزئی کیخلاف ناکافی ثبوت پیش کیے گئے: ماڈل کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

ماڈل کورٹ نے ٹریفک سارجنٹ قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

ایڈیشنل سیشن جج ماڈل کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن کی جانب سے سابق ایم پی اے عبدالمجید اچکزئی کے خلاف کافی ثبوت ریکارڈ پر نہیں لائے گئے۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ پہلے پولیس نے 20 جون 2017کو نامعلوم افراد کے خلاف فوری مقدمہ درج کیا، پھر 24 جون کو عبدالمجید اچکزئی کو گرفتار کیا گیا۔

ماڈل کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم عبدالمجید نے تفتیش کے دوران بیان دیا کہ وہ نہیں ان کا ڈرائیور گاڑی چلا رہا تھا، 14 روزہ ریمانڈ کے دوران عینی شاہدین سے عبدالمجید کی کوئی شناخت پریڈ نہیں کروائی گئی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عینی شاہدین کی جانب سے عبدالمجید کو واقعے میں نامزد نہیں کیا گیا، پراسیکیوشن کے تمام 20 گواہوں میں سے کسی نے تصدیق نہیں کی کہ گاڑی ملزم چلا رہا تھا۔

فیصلے کے مطابق واقعے کے 4 گواہوں نے بھی واضح بیان دیا کہ گاڑی ڈرائیور عبدالکبیر چلا رہا تھا، گواہوں کے مطابق پولیس نے اُن پر ملزم کو کیس میں نامزد کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

ماڈل کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ کیس میں شکایت کنندہ نے بھی اپنے فرد بیان میں ملزم کے حوالے سے ذکر نہیں کیا، پہلے ملزم کے نامعلوم ہونے اور بعد میں نامزدگی کے بعد کوئی شناخت پریڈ نہیں کرائی گئی، اس صورتحال میں گواہوں کے بیانات عدالت کے لیے قابل اطمینان نہیں۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ ملزم عبدالمجید اچکزئی کو کیس میں سزا دینے کے لیے پیش کیے گئے ثبوت ناکافی ہیں، پراسیکیوشن ملزم کا جرم سے تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کیس میں شک کا فائدہ ملزم عبدالمجید اچکزئی کو دیا جاتا ہے، ملزم کو 302، 324، 320 سمیت دیگر دفعات کے تحت الزامات سے بری کیا جاتا ہے۔

عدالت نے کیس پراپرٹی گاڑی کو کاغذات کی تصدیق کے بعد مالک کے حوالے کرنے کا بھی حکم دیا جب کہ مرحوم ٹریفک سارجنٹ کے خون آلود کپڑے ان کے قانونی ورثاءکے حوالے کرنے کا کہا گیا۔

ماڈل کورٹ نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی حامل سی ڈیز حفاظت میں رکھنے کا بھی حکم دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں