عالیہ ظفر کو پی سی بی گورننگ بورڈ کی پہلی خاتون آزاد ڈائریکٹر بننے پر فخر

پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننگ بورڈ کی پہلی آزاد خاتون ڈائریکٹر عالیہ ظفر کا کہنا ہے کہ تاریخ کا حصہ بننے پر فخر محسوس کر رہی ہوں۔

پی سی بی نے پہلی مرتبہ آزاد ڈائریکٹرز شامل کیے ہیں جو پی سی بی گورننگ بورڈ کے اراکین میں شامل ہوں گے۔ 2019 کے آئین کے مطابق پی سی بی کے گوررنگ بورڈ میں چار آزاد اراکین کا تقرر بھی کیا گیا ہے جنہیں آزاد ڈائریکٹرز کا نام دیا گیا ہے، ان میں ایک خاتون ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔

عالیہ ظفر کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے جو ہیومن ریسورس کی ماہر ہیں اور بینکنگ سیکٹر میں ایچ آر کی سربراہ کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

‏جیو نیوز سے گفتگو میں عالیہ ظفر کا کہنا تھا کہ تاریخ کا حصہ بننے پر فخر محسوس کر رہی ہوں، پی سی بی نے گورننس کو مزید بہتر بنانے کے لیے گورننگ بورڈ میں انڈی پینڈنٹ ڈائریکٹرز کا تقرر کیا ہے اور میں اس میں شامل ہوں تو اس سے مجھے بھی خوشی محسوس ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا میں سمجھتی ہوں کہ پی سی بی کی گورننس پہلے بھی بہتر ہے اور اسے مزید بہتر بنانے کے لیے پی سی بی نے آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کر کے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے۔

‏ عالیہ ظفر کہتی ہیں کہ ہر شعبے میں خواتین کا ہونا بہت ضروری ہے اور اب ہر شعبے میں خواتین آ بھی رہی ہیں لیکن مزید خدمات حاصل کرنے کی ضرورت ہے، میں اس خطے میں بھی پہلی خاتون کرکٹ ڈائریکٹر ہوں، اس سے یقینی طور پر دیگر خواتین کے لیے میں انسپائریشن ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کسی بھی صورت مردوں سے کم نہیں ہیں، آپ بورڈز کے امتحانات کا جائزہ لے لیں، لڑکیاں ٹاپ کر رہی ہیں، ان میں صلاحیتیوں کی کمی نہیں ہے بلکہ صرف مواقع کی کمی ہے، ان کے لیے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اب مجھے موقع ملا ہے تو میں ضرور اپنا حصہ ڈالوں گی۔

گورننگ بورڈ کی رکن عالیہ ظفر کا ماننا ہے کہ گورننگ بورڈ کا کام ہی گورننس کو بہتر بنانا اور اس حوالے سے مزید کام کرنا ہے، کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں، میں چونکہ ایچ آر سے وابستہ ہوں تو مجھے ایچ آر کمیٹی کی چیئر پرسن بنایا گیا ہے، اس شعبے میں جہاں بہتری لانے کی ضرورت ہو گی میں بہتری لانے کے لیے تجاویز دوں گی۔

ان کا کہنا تھا میں سمجھتی ہوں کہ پی سی بی کی مینجمنٹ بہتر کام کر رہی ہے، بورڈ آف گورنرز اس کا مزید بھی جائزہ لیں گے اور ہم اپنی سپورٹ منجمنٹ کو دیں گے۔

‏ عالیہ ظفر کہتی ہیں کہ ہم آزاد اراکین ہیں یہی تبدیلی ہے، ہم تنخواہیں نہیں لے رہے، ہم بورڈ کا حصہ ہیں تو اپنا آزادانہ تجزیہ دے سکتے ہیں، کارپوریٹ گورننس کے لیے کام کرنا ہے اور اس کے لیے کوئی بورڈ آف گورنرز ربڑ اسٹیمپ نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا اپنا تو کوئی مفاد نہیں ہے اس لیے ہم ربڑ اسٹیمپ نہیں ہو سکتے، ہم نے گورننس کو بہتر بنانا ہے۔