سکھر(رپورٹ۔امداد علی گل کلوڑ)

سکھر(رپورٹ۔امداد علی گل کلوڑ)سکھرمیں ایریگیشن ایراضی پر سے تجاوزات کے خاتمےکامعاملہ ،عدالت عالیہ نے مساجد کےخلاف کاروائی روکنے اور شہید مساجد دوبارہ تعمیر کرانے کا حکم دے دیا،نجی اسپتالوں کےخلاف کاروائی بھی پندرہ دن تک روک دی ،درخواست کی سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کردی تفصیلات کے مطابق
سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں محکمہ ایریگیشن کی ایراضی پر قبضوں کے خلاف داخل پٹیشن کی سماعت کی سماعت کے دوران عدالت میں جمعیت علمائے اسلام سندھ کے سیکریٹری جنرل راشد محمود سومرو بھی پیش ہوئے اور انہوں نے اپنے وکلاء کی معرفت عدالت میں درخواست دی کہ تجاوزات کےنام پرمساجد کو بھی شہید کیا جارہاہے اور اب تک 17سے زائد مساجد شہید کی گئی ہیں مساجد کو شہید کرنا کسی طور شرعی نہیں ہے اور نہ ہی اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک میں کسی کو یہ اختیار حاصل ہے جس پر عدالت عالیہ نے ریمارکس دیئےکہ عدالت نے مساجد مسمار کرنے کا کوئی حکم نہیں دیاہے اس لیے حکومت مساجد کی تعمیر کے لیے دوبارہ جگہ فراہم کرے شہید مساجد دوبارہ تعمیر کی جائیں اورآپریشن کے دوران کسی مسجد کے خلاف کاروائی نہ کی جائے علاوہ ازیں عدالت عالیہ کو بتایاگیاکہ ایریگیشن ایراضی پر نجی اسپتالیں بھی قائم ہیں اور ان میں مریض زیر علاج ہیں جس پر عدالت نے حکم دیا کہ اسپتالوں کو پندرہ روز کا وقت دیا جائے تاہم دیگر کمرشل عمارتوں کو فوری طور پر مسمار کیا جائے بعدازاں عدالت نے درخواست کی سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کردی دریں اثناء عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یوآئی سندھ کے سیکریٹری جنرل راشد محمود سومرو نے عدالت عالیہ کے مساجد کے خلاف کاروائی روکنے اور شہید مساجد کو دوبارہ تعمیر کرانے کے حکم پر خوشی کا اظہار کیا اور عدالت عالیہ سے اظہار تشکر کیا