سعودیہ، قطر کی سرمایہ کاری میں تاخیر کیوں؟ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سابق چیئرمین کے انکشافات

بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سابق چیئرمین ہارون شریف نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب اور قطر سے یقین دہانی کے باوجود 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نہ آنے کی وجہ عدم تحفظ کی شکار بیورو کریسی کے ڈھانچے، سیاسی مداخلت، ناتجربے کار اور معلومات سے عاری افراد کی بیرونی سرمایہ کاری کے لیے تعیناتی ہے۔

ہارون شریف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ معاشی پالیسیوں میں عدم استحکام، افسر شاہی کی مزاحمت، سرمایہ کاری کے لیے بیرون ملک متعین سفیروں اور وزراء کی نامزدگیوں میں سیاسی مداخلت پر انہوں نے پُروقار طریقے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔

سابق چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ نے بتایا کہ کچھ ٹیکنو کریٹس کو غیرمنصفانہ انداز میں عہدے سے بے دخل کرنے کے بعد ان کا یہ فیصلہ درست ثابت ہوا، پالیسیوں پر افسر شاہی کے اثرانداز ہونے کے باعث وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں نہیں نبھا پائے۔

ہارون شریف کا کہنا تھا انہوں نے ملاقات میں وزیراعظم سے درخواست کی تھی کہ ان کی سربراہی کے بغیر دو طرفہ سرمایہ کاری کا موقع پایہ تکمیل تک نہیں پہنچے گا، افسوس کہ ایسا ہی ہو رہا ہے۔