WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SELECT * FROM YhPGeuvMupviews WHERE user_ip = '3.238.74.163' AND post_id = '2789'

WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SHOW FULL COLUMNS FROM `YhPGeuvMupviews`

درگاہ اللہ باد شریف

سکھر۔28 نومبر 2020 درگاہ اللہ باد شریف کنڈیارو میں منعقد ہونے والے37 ویں بین الاقوامی سالانہ عرس مبارک حضرت سوھناسائیں کے حوالے سے خصوصی تحریر
ڈاکٹر سعید اعوان پریس سیکریٹری جماعت اصلاح المسلمین پاکستان سندھ

سندھ دھرتی کو روشن کرنے والے اللہ کے محبوب حضرت سوھنا سائیں

دل نے چاہا کہ اپنے محسن،اپنے سرتاج ،اپنے ہمدرد و غمگسار،رحمت پروردگار،نور عین،آواز حق اپنی شناخت مر شد کریم خواجہ خواجگان حضرت سوھنا سائیں رحمت اللہ علیہ کی ذات مبارکہ کے حوالے سے تحریر لکھوں۔ سر زمین سندھ کی بھی یہ بڑی خوش نصیبی ہے کہ عالم اسلام کے مختلف علاقوں سے اللہ تعالی کے مقرب اور برگزیدہ بندوں نے رشدوہدایت کے دریا جاری کئے۔باب الااسلام سندھ میں ہزاروں بزرگان دین،اولیاء اللہ اور صوفیائے کرام کا فیوض برکات جاری ہے۔سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم المرتبت بزرگ،قطب دوراں،غوث زماں،مجدد دین و ملت،آفتاب ولایت خواجہ خواجگان حضرت سوھنا سائیں رحمت اللہ علیہ کی ذات با برکات علم و عرفان اور اسرار و رموز کا لامتناہی سمندر ہے۔جیسے آپ کا لقب سوھنا سائیں ہے۔ویسے ہی آپ صورت و سیرت میں حسین و جمیل تھے۔۔آپ عاشق خدا اور صوفی با صفا تھے۔صاحب کمالات و کرامات اور علمبردار عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔سلسلہ نقشبندیہ کے تاجدار تھے۔۔آپ نے اپنے علم وعمل کی روشنی سے صرف سر زمین سندھ ہی کو نہیں بلکہ پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک کو منور کیا۔آپ نے لشکر کشی یا تلوار استعمال نہیں کی آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ نے محبت ،انسانیت،مساوات،اخوت،رواداری اور وسیع النظری سے لوگوں کے قلوب میں میں جگہ بنائی۔آپ نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی ان کے اخلاق کو سنوارا،انسانوں کے دلوں میں نیکی اور سچائی کی لگن پیدا کی ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور محبت سے رہنا سکھایا۔آپ کی حیات طیبہ سادگی اور شرافت کی تصویر تھی۔آپ کی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی جس کی وجہ سے لوگ آپ سے بہت متاصر ہوتے تھے۔اپنی نورانی نگاہوں سے لاکھوں دلوں کو ذکر الہی سے سر شار کیا۔لاکھوں انسانوں کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔آپ تبلیغی دوروں میں جہاں بھی گئے آپ سے بے پناہ کرامات بھی ظاہر ہوتیں جس سے عوام الناس میں آپ کو بے حد مقبولیت حاصل ہوتی۔آپ کی تبلیغی کوششوں نے لوگوں کو بہت سکون اور اعتماد عطا کیا اور لوگ کٹرت سے اسلام قبول کرتے چلے گئے۔آپ کی صحبت با برکت سے لاکھوں انسان راہ راست پر آگئے۔۔بحٹیت ایک روحانی استاد،دانشور اور رہنما کے حالات اور واقعات پر آپ کی گہری نظر تھی۔آپ کی پوری زندگی بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود،امن،ترقی،محبت و اخلاص اور خدائے واحد کی پرستش کے فروغ کے لئے وقف تھی۔آپ نے عام افراد کے دکھوں اور پرشانیوں کا مداوا کیا ان سے محبت اور پیار کا سلوک کیا۔آپ کی فکر،آپ کا پیغام،آپ کی تعلیمات کا محور یا مرکزی نکتہ خالق و مالک کائنات اللہ وحدہ لا شریک کو پہچھاننا اللہ کی رضا اور اللہ کی قربت کا حصول ہے۔آپ کا پیغام اللہ سے قربت،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت و عشق و محبت،اولیاء اللہ،صوفیائے کرام،علماء کرام سے تربیت و صحبت و ادب،انسانیت کی خدمت صرف اور صرف رضا الہی کے لئے ہے۔آپ قلبی ذکر کا تحفہ دل پر انگلی لگا کر دیتے تھے اس پر عمل کرنے سے لوگ پانچ وقت کے نمازی اور تہجد گذار بن جاتے۔چہرے پر حضور کی سنت ڈارھی مبارک سج جاتی، سر پر دستار مبارک سج جاتی،مسواک ساتھی بن جاتا۔آپ نے جماعت اصلاح المسلمین پاکستان اور روحانی طلباء جماعت کی بنیاد ڈالی۔جس کا مقصد ایک تنظیم کے زریعے منظم انداز میں اسلام کا حقیقی عالمگیر پیغام محبت،امن و سلامتی لوگوں تک پہنچایا جائے۔دلوں میں عشق مصطفی صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کی شمعیں روشن کی جائیں۔اصلاح معاشرہ کے لئے کام کیا جائے۔انسانیت کی فلاح بہبود کے لئے کام کیا جائے۔آج دنیا اور خاص امت مسلمہ جن مسائل سے دوجار اور امن کی متلاشی ہے وہ اگر آپ کےاس پیغام پر عمل پیرا ہوجائے جس میں آپ نے فرمایا کسی بھی مذہب یا مسلک کے بڑوں،بزرگوں یا رہنماوں کو کھبی برا مت کہو یہی اخلاق حسنہ ہے جس کا عظیم درس آقائے دو جہاں رحمت العالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ اس پر عمل پیرا ہوکر دنیا امن و محبت کا گہوارہ بن جائے گی۔آپ 6 ربیع الاول 1404 ھجری کو اس فانی دنیا سے رحلت فرما کر مالک حقیقی کے قرب حقیقی میں پہنچے۔آپ کے بعد جماعت کے قائد و رہبر کے لئے خلفاء کرام نے متفقہ طور پر آپ کے لخت جگر خواجہ محمد طاہر المعروف سجن سائیں کو چن لیا ۔حضرت سوھنا سائیں کا سالانہ عرس مبارک انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔اس سال بھی 28 نومبر 2020 کو ہفتہ کو درگاہ اللہ باد شریف میں منعقد ہوگا۔مریدین و عقیدت مند کی جانب سے ہزاروں کی تعداد میں میں قرآن مجید،لاکھوں کی تعداد میں اورادووظائف،کھربوں کی تعداد میں درود شریف کے نذارنے ایصال ٹواب کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔ اس سال عالمی وبا کرونا وائرس کے باعث عوامی سطح کے بجائے 28 نومبر 2020 کو بعد نماز مغرب درگاہ اللہ باد شریف سے خواجہ خواجگان حضرت اللہ بخش المعروف سوھنا سائیں رحمت اللہ علیہ کے 37 ویں عرس مبارک کی پرفیض و پرکشش خصوصی آخری نشست کو پوری دنیا میں الاصلاح نیٹ ورک کے زریعے براہ راست دکھانے کے انتظامات کئے گئے ہیں۔تاکہ عقیدت مند و مریدین اپنے گھر میں اپنی فیملی کے ساتھ عرس مبارک کی اختتامی نشست کی سماعت کا لطف اور فیوض و برکات سے مستفیض ہوسکیں۔خصوصی نشست میں ختم شریف کے اعلانات،خصوصی رکت انگیز دعا،نعت،منقبت اور آخر میں خصوصی خطاب دلنواز فخر انسانیت خواجہ محبوب سجن سائیں فرمائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں