جہانگیر ترین کی پاکستان واپسی، چینی بحران پر قابو کیلیے حکومت کو تعاون کی پیشکش

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین لندن سے وطن واپس پہنچ گئے۔

جہانگیر ترین لندن سے براستہ دبئی نجی ائیرلائن کی پرواز کے ذریعے لاہور  پہنچے۔

پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین اپنی اہلیہ کے ہمراہ لاہور پہنچے، ان کے ساتھ فیملی کا اور کوئی شخص موجود نہیں تھا، اس سے قبل اطلاعات تھیں کہ جہانگیر ترین اپنے بیٹے علی ترین کے ہمراہ پاکستان واپسی کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔

جہانگیر ترین کے استقبال کے لیے پی ٹی آئی کا کوئی رہنما بھی ائیرپورٹ نہیں تھا تاہم ان کے کچھ قریبی دوست ان کے استقبال کے لیے ائیرپورٹ پر موجود تھے جنہوں نے ان کی لاہور آمد پر انہیں گلدستہ پیش کیا۔

لاہور ائیرپورٹ پر گفتگو

اس موقع پر نمائندہ جیونیوز سے غیر رسمی گفتگو میں پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ فی الحال صحت میں فعال کردار ادا کرنے کا نہیں سوچا، ابھی اچھا خاصہ تھکا ہوا، کچھ دن اور آرام کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ علاج کی غرض سے باہر گیا تھا اور 7 سال سے ہر سال علاج کے لیے باہر جاتا ہوں، اپوزیشن کاکام الزام لگانا ہے جس کا جواب دینا ضروری نہیں،  اللہ کا شکر ہے میرا تمام کاروبار صاف شفاف ہے۔

جہانگیر ترین کی پیشکش

دوسری جانب جہانگیر ترین نے ایک ٹوئٹ کی جس میں انہوں نے چینی بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت کو اپنے تعاون کی پیشکش کی ہے۔

ٹوئٹر پرجاری بیان میں جہانگیر ترین نے کہا کہ ہماری شوگر ملز 10 نومبر کو گنے کی کرشنگ کے خلاف کسی پٹیشن کا حصہ نہیں، میری تمام 6 شوگر ملز 10 نومبر سے کرشنگ کا آغاز کر دیں گی۔

انہوں نے کہا کہ چینی کی قلت ختم اور قیمت کم کرنے کے لیے حکومت سے ہر ممکن تعاون کریں گے۔

جہانگیر ترین ملک میں چینی بحران کے بعد شوگر کمیشن کی رپورٹ کے بعد لندن روانہ ہوگئے تھے اور تقریباً 7 ماہ لندن میں قیام کیا۔

واضح رہےکہ جہانگیر ترین کو شوگر کمیشن اور ایف آئی اے نے طلب کیا تھا لیکن انہوں نے پیش ہونے سے معذرت کرلی تھی۔

خیال رہےکہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کے تحت جہانگیر ترین، مونس الٰہی، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ، اومنی گروپ اور خسرو بختیار کے بھائی عمرشہریار کی چینی ملز نے پیسے بنائے۔

فارنزک آڈٹ رپورٹ میں چینی اسیکنڈل میں ملوث افراد کےخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے اور ریکوری کرنےکی سفارش کی گئی ہے جبکہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ریکوری کی رقم گنےکےمتاثرہ کسانوں میں تقسیم کردی جائے۔