’جنسی ہراساں کرنے والے کو تعلیمی منصوبے کا حصہ نہیں ہونا چاہیے‘

پرائیڈ آف پرفارمنس ملنے پر تنقید کے بعد اب سوشل میڈیا پر گلوکار علی ظفر کو ’نمل نالج سٹی‘ کا سفیر مقرر کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

گلوکار علی ظفر نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ انہیں وزیر اعظم عمران خان کے ’نمل نالج سٹی‘ کا سفیر مقرر کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے گلوکار علی ظفر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں پاکستان کے سب سے بڑے علم والے شہر نمل نالج سٹی کا سفیر بننے پر فخر محسوس کر رہا ہوں‘۔

علی ظفر نے کہا کہ ’اس شہر کا نظریہ معزز وزیراعظم عمران خان نے پیش کیا ہے جب کہ اسے معروف امریکی ماہر تعمیرات ٹونی اشائی نے ڈیزائن کیا ہے‘۔

گلوکار نے مزید کہا کہ ’علم کسی بھی ملک اور اس کے عوام کی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے‘۔

اب علی ظفر کو  ’نمل نالج سٹی‘ کا سفیر مقرر کرنے پر سوشل میڈیا  صارفین کی جانب سے ایک مرتبہ پھر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

’پتہ نہیں عمران کو کوئی قابل بندہ کیوں نہیں ملتا‘

ایاز نامی صارف نے لکھا کہ ’ پتہ نہیں عمران کو کوئی قابل بندہ کیوں نہیں ملتا، اب اس اس اداکار کو اس پوسٹ پر لگایا، اسے کوئی پڑھا لکھا بندہ نہیں ملا ملک میں؟‘۔

’جنسی ہراساں کرنے والا تعلیمی منصوبے کا حصہ نہیں ہونا چاہیے‘

سہیل عارف لکھتے ہیں کہ ’جنسی ہراساں کرنے والا تعلیمی منصوبے کا حصہ نہیں ہونا چاہیے، کیا ہمارے پاس  اساتذہ کی کمی ہے؟‘۔

’علم کے شہر کے سفیر بننے کے لیے آپ کی کیا اہلیت ہے؟‘

عماد حسین لکھتے ہیں کہ ’علم کے شہر کے سفیر بننے کے لیے آپ کی کیا اہلیت ہے؟ آپ اور پی ٹی آئی ان لوگوں کا تمسخر اڑاتے ہیں جو علم کے حصول کے لیے وقت دیتے ہیں اور محنت کرتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ پرائیڈ آف پرفارمنس ملنے پر بھی گلوکار علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی جا رہی تھی۔

بعدازاں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے گلوکار علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مبینہ مہم پر 9 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔