WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SELECT * FROM YhPGeuvMupviews WHERE user_ip = '3.237.67.179' AND post_id = '2057'

WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SHOW FULL COLUMNS FROM `YhPGeuvMupviews`

جب ڈچ شخص کے لیے نیند کی گولی معجزہ بن گئی

گزشتہ 8 برس سے بات کرنے، کھانے پینے اور چلنے پھرنے کی صلاحیت سے محروم ایک ڈچ شہری ایمبین نامی نیند کی گولیوں کے استعمال کے صرف 20 منٹ بعد ہی ہوش میں آگیا۔

دماغی چوٹ سے متاثرہ 39 سالہ ڈچ شہری کا تعلق ایمسٹرڈیم سے ہے اور میڈیکل جرنل کارٹیکس میں ماہرین نے مریض کا نام رچرڈ تحریر کیا ہے۔

رچرڈ کو 29 سال کی عمر میں گوشت کھانے کے بعد ایک منفرد ذہنی بیماری (ایکینیٹک میوٹزم)کا سامنا کرنا پڑا۔ جس نے رچرڈ کے دماغ کے لیے آکسیجن کی فراہمی کو ناممکن بناتے ہوئے اسے بنیادی صلاحیتوں کی انجام دہی سے محروم کردیا تھا۔

ایکینیٹک میوٹزم انسان کو طبعی طور پر مفلوج کرنے والی بیماری نہیں تاہم اس بیماری میں مبتلا انسانوں کی دماغی کارکردگی (جس کے ذریعے انسان کھانے پینے اور حرکت کرنے کے قابل ہوتا ہے) انتہائی سست ہو جاتی ہے۔

تاہم اب محققیق کا خیال ہے کہ نیند کی گولی ایمبین کا استعمال اس بیماری میں مبتلا مریضوں کے لیے بند راستےکھولنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

رچرڈ کا علاج کرنے والے طبی ماہرین کے مطابق بیماری کی تشخیص کے بعد رچرڈ صرف آنکھوں کے اشاروں کے ذریعے سوالات کے جوابات دے رہے تھے جب کہ مریض کو غذا ٹیوب کے ذریعے فراہم کی جارہی تھی۔

8سال تک رچرڈ کے علاج کے لیے مختلف طریقوں میں ناکامی کے بعد ڈاکٹروں نے مریض کے اہل خانہ کی اجازت کے ساتھ آخری حربے کے طور پر دنیا میں کومہ کے مریضوں کو دی جانے والی دوا زولپیڈم(zolpidem) دینے کا فیصلہ کیا۔

دوا کے استعمال کے 20 منٹ بعد ہی رچرڈ خیال رکھنے والے عملے کی مدد سے اپنی والد کو فون کرنے کے قابل ہوگیا جنہیں اپنے بیٹے کی آواز سنے کئی سال گزر چکے تھے۔

ہوش میں آتے ہی رچرڈ نے نرس سے سوال کیا وہ اپنی وہیل چیئر کو کیسے چلا سکتا ہے؟ ساتھ ہی رچرڈ نے نرس سے کھانوں اور والد کو فون کرنے کی بھی درخواست کی۔

ماہرین کا کہنا ہے رچرڈ کو دن میں ایک باریہ دوا دی جاسکتی ہے جس سے وہ دن میں دو گھنٹے ایکٹو رہ سکتا ہے لیکن اگر 5 دن یہ دوا اسی رفتار سے رچرڈ کو دی جائے تو جلد ہی اس دوا کے اثرات ختم ہونا شروع ہوجائیں گے کیونکہ مریض کا جسم اس دوا کا عادی ہو جائے گا۔

لہٰذا ڈچ ماہرین اس دوا کے دیرپا اثرات سے متعلق اب بھی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں