WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SELECT * FROM YhPGeuvMupviews WHERE user_ip = '3.236.214.19' AND post_id = '4524'

WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SHOW FULL COLUMNS FROM `YhPGeuvMupviews`

بین ڈنک آسٹریلیا کے دورہ پاکستان کیلئے پُرامید

آسٹریلوی کرکٹر بین ڈنک نے سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کو محفوظ ملک قرار دیا ہے۔

یہ بیان انہوں نے ایک ایسے وقت پر دیا جب آئندہ سال آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کرنا ہے  جس میں 2 ٹیسٹ، 3 ون ڈے اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی۔

پاکستان سپر لیگ کی ٹیم لاہور قلندر کے آلراؤنڈر آسٹریلوی کھلاڑی بین ڈنک نے ایک بیان میں کہا کہ وہ آئندہ سال آسٹریلیا کے دورہ پاکستان کے حوالے سے بھی بہت پر امید ہیں کہ یہ ٹور پاکستانی عوام اور کرکٹرز کے لیے شاندار ہوگا۔

بین ڈنک سے سوال گیا کہ اگر کرکٹ آسٹریلیا نے پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال پر ان سے رائے مانگی تو وہ کیا جواب دیں گے؟

اس پر بین ڈنک نے جواب دیا کہ وہ پاکستان میں سیکیورٹی انتظامات سے 100 فیصد مطمئن ہیں، وہ چار مرتبہ پاکستان آچکے ہیں اور انہوں نے یہاں کبھی خود کو غیر محفوظ نہیں سمجھا۔

بین ڈنک نے مزید کہا کہ یہاں ہوٹل سے لے کر گراؤنڈ تک بہترین سیکیورٹی انتظامات کیے جاتے ہیں، ایسے میں آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان یہاں کی عوام کے لیے ایک شاندار تجربہ ہوگا۔

پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کا سلسلہ 2019 میں دوبارہ بحال ہوچکا ہے اور اب انگلینڈ اور نیوزی لینڈ جیسی بڑی ٹیموں کو بھی رواں سال پاکستان کا دورہ کرنا ہے۔

بین ڈنک مسلسل دوسری مرتبہ لاہور قلندرز کا حصہ بنے ہیں، وہ اس سے قبل ایڈیشن 2019 میں کراچی کنگز کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

بین ڈنک نے کہا کہ پاکستانی کراؤڈ شاندار ہوتا ہے اور انہیں امید ہے کہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم بھی پاکستانی کراؤڈ کے سامنے کھیل کر لطف اندوز ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اب تک چار مرتبہ پاکستان آچکے ہیں، انہیں یہاں کی میزبانی اور کھانے بہت پسند ہیں، مقامی افراد کی حوصلہ افزائی بھی شاندار رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس پی ایل کے پانچویں ایڈیشن میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کا تجربہ بہت اچھا رہا۔

گزشتہ سال ایونٹ کی رنرز اپ ٹیم لاہور قلندرز کے لیے بین ڈنک نے گزشتہ ایڈیشن کے گیارہ میچوں میں 37.50کی اوسط سے تین سو رنز بنائے تھے۔ اس دوران اُن کا اسٹرائیک ریٹ167.59 رہا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ لاہور قلندرز کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں تمام کھلاڑیوں کا اپنا ایک کردار تھا، تاہم وہ خوش قسمت ہیں کہ ان کی متعدداننگز نے ٹیم کی جیت میں بڑا کردار ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں