بھارتی ریاست اترپردیش میں شادی کے نام پر مذہب کی تبدیلی غیر قانونی قرار

 لکھنؤ: ریاست اترپردیش کی حکومت نے ’لو جہاد‘ کے خلاف قانون بنالیا جس کے تحت شادی کےنام پر مذہب کی تبدیلی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت کے ترجمان سدھارتھ ناتھ سنگھ کے مطابق کابینہ نے گزشتہ روز شادی کے لیے غیر قانونی مذہب تبدیلی، مخالف قانون کے التزام کی منظوری دے دی گئی جس کے تحت شادی کے نام پر مذہب تبدیلی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

منظور کیے گئے قانون کے مطابق اجتماعی طور پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے 3 سے 10 سال کی سزا مقرر کی گئی ہے جب کہ 15 سے 50  ہزار تک کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

 تجاویز میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی مذہبی رہنما کو مذہب کی تبدیلی سے قبل ڈی ایم سے اجازت درکار ہوگی اور قانون کے تحت جو مذہب تبدیلی کرے گا اسے بھی ضلع افسر سے اجازت لینی ہوگی جب کہ اگر کوئی اجتماعی طور پر مذہب تبدیلی کراتا ہے تو اسے 10 سال کی سزا اور 50 ہزار روپئے کا جرمانہ دینا ہوگا۔

خیال رہے کہ لو جہاد کے حوالے سے ہندو تنظیموں کی جانب سے مسلم لڑکوں پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ مسلمان لڑکے ایک بین الاقوامی سازش کے تحت ہندو لڑکیوں کو اپنی محبت کے دام میں پھنسا کر ان کا مذہب تبدیل کراتے ہیں اور پھر اُن سے شادی کرلیتے ہیں  جب کہ ان شادیوں کو ہندو تنظیموں کی جانب سے لو جہاد کا نام دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل ہی اتر پردیش کےوزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے مبینہ ’لو جہاد’ کے خلاف قانون سازی کا اعلان کیا گیا تھا۔