WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SELECT * FROM YhPGeuvMupviews WHERE user_ip = '3.236.122.9' AND post_id = '904'

WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SHOW FULL COLUMNS FROM `YhPGeuvMupviews`

بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کیلئے کیا قدم اٹھایا؟

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے گزشتہ برس اقتدار میں آتے ہی  5 اگست کو آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کیا جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو حاصل نیم خود مختاری اور خصوصی اختیارات ختم ہو گئے۔

بھارتی اقدام سے ریاست جموں و کشمیر کی جگہ مرکز کے زیرِ انتظام دو علاقے جموں و کشمیر اور لداخ بنائے گئے، دونوں علاقوں کا انتظام لیفٹیننٹ گورنر کے حوالے کیا گیا۔

ہندوتوا پالیسی پر عمل پیرا مودی سرکار کی طرف سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل نہیں رہا۔

جموں و کشمیر کے داخلہ امور اب وزیراعلیٰ کی بجائے براہِ راست بھارت کے وفاقی وزیرِ داخلہ کے تحت آگئے ہیں جو لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے انہیں چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

آرٹیکل 370 کے خاتمے سے بھارت کے وہ قوانین جو پہلے ریاستی اسمبلی کی منظوری سے مشروط تھے اب علاقے میں خودبخود نافذ ہو چکے ہیں، اسی طرح انڈین سپریم کورٹ کے فیصلوں کا اطلاق بھی اب براہِ راست ہو چکا ہے۔

بھارتی آئین کے تحت وفاقی حکومت کسی ریاست یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے تاہم آرٹیکل 370 کے تحت انڈین حکومت کو جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی۔

بھارتی آئین کی جو دفعات دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتی ہیں اس آرٹیکل کے تحت ان کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر پر نہیں ہو سکتا تھا، ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے، الگ پرچم رکھنے کا حق دیا گیا تھا، آرٹیکل 370 کے تحت بھارتی صدر کے پاس ریاست کا آئین معطل کرنے کا حق بھی نہیں تھا۔

آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کوئی بھی بھارتی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔

دوسری جانب کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستان اپنے دعوؤں سے دستبردار ہوا اور نہ غیور کشمیریوں کے جذبہ آزادی میں کوئی کمی آئی۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے یوم استحصال منایا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں