ایم ایل ون منصوبہ، حکومت کا 6 ارب ڈالر قرض کیلئے چینی بینک سے رابطہ

وفاقی حکومت نے ریلوے کے ایم ایل ون منصوبے پر عمل درآمد کے لیے 6 ارب ڈالر قرض کے لیے چینی بینک سے رابطہ کر لیا۔

ایم ایل ون منصوبے کی تکمیل سے مسافر ٹرینوں کی رفتار بڑھ کر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو جائےگی جبکہ کراچی تا لاہور سفر کا دورانیہ 18 گھنٹے سے کم ہو کر 10 گھنٹے رہ جائے گا۔

ریلوے حکام کے مطابق پاک چین جوائنٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی کا اجلاس اسی ماہ متوقع ہے جس میں سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد کا معاملہ زیر  بحث آئے گا۔

ریلوے حکام پُرامید ہیں کہ اس اجلاس میں ایم ایل ون منصوبے کے لیے ٹینڈر  جاری کرنے کی منظوری بھی مل جائےگی۔

حکام کے مطابق ایم ایل ون منصوبے کے تحت کراچی سے پشاور اور ٹیکسلا سے حویلیاں تک 1872کلو میٹر کا پھاٹک فری نیا ریلوے ٹریک بچھایا جائے گا۔

منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 6.8 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، چھ ارب ڈالر کا قرض چینی بینک فراہم کرے گا جبکہ باقی اخراجات پاکستان خود برداشت کرے گا۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ایم ایل ون منصوبے سے روزگار کے 24 ہزار مواقع پیدا ہوں گے، ایم ایل ون منصوبے میں حویلیاں کے قریب نئی ڈرائی پورٹ کی تعمیر  اور لاہور میں ریلوے ٹریننگ اکیڈمی کی اپ گریڈیشن بھی شامل ہے۔