امریکا کا چین پر دباؤ ڈالنے کیلئے تائیوان کو اربوں ڈالر کے ہتھیار دینے کا فیصلہ

امریکا نے تائیوان کو ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کے معاہدے کی منظوری دے دی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکا نے چین پر دباؤ بڑھانے کے لیے تائیوان کو ہتھیار کی بڑی کھیپ فروخت کرنے کی منظوری دی ہے۔

امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کا کہنا ہےکہ تائیوان کے ساتھ تھری ویپن سسٹم کا معاہدہ طے پایا ہے جس میں راکٹ لانچرز، سینسرز اور آرٹلری شامل ہیں۔

اس سلسلے میں تائیوان کی وزارت دفاع نے کہا ہےکہ امریکا سے ملنے والے ہتھیار تائیوان کی جوابی صلاحیتوں کو مضبوط کریں گے اور ایک اوجھل جنگی ماحول میں اسے مستحکم کریں گے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق معاہدے میں 135 گائیڈڈ کروز میزائل، موبائل لائٹ راکٹ لانچرز سمیت جنگی طیاروں کے ساتھ منسلک کیے جانے والے جاسوسی پوڈز بھی شامل ہیں۔

چین اور تائیوان کے درمیان حالیہ سالوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور بیجنگ نے آئس لینڈ کو واپس لینے کے لیے فورسز کے استعمال کے امکان کو رد نہیں کیا ہے۔

برطانوی میڈیا کےمطابق گزشتہ ہفتے امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ برائن کا کہنا تھا کہ انہیں یقین نہیں تھا کہ چین تائیوان پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، تائیوان کو مستقبل میں خود کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔

خیال رہے چین کا دعویٰ ہے کہ تائیوان اس کا اٹوٹ انگ ہے لیکن تائیوان خود کو ایک علیحدہ وطن قرار دیتا ہے۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں امریکا نے تائیوان کے ساتھ اپنے رابطوں میں تیزی کی ہے اور اگست میں امریکا کے اہم ترین سیاستدان نے کئی سالوں بعد تائیوان کے صدر سے ملاقات کی تھی۔

چین نے امریکی سیاستدان اور تائیوان کے صدر کی ملاقات کی شدید مذمت کی اور کہا کہ امریکا تائیوان کے معاملے پر کوئی غلط پیغام نہ دے۔