WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SELECT * FROM YhPGeuvMupviews WHERE user_ip = '3.236.214.19' AND post_id = '5948'

WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SHOW FULL COLUMNS FROM `YhPGeuvMupviews`

امریکا: سیاہ فام جارج کے قتل کیس میں سفید فام سابق پولیس افسر پر فرد جرم عائد

امریکی عدالت نے پولیس کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کے قتل کیس میں سابق پولیس افسر پر فرد جرم عائد کردی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی عدالت کے 12 ججوں پر مشتمل جیوری نے گزشتہ سال مینیاپولس میں پولیس کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کے کیس کا فیصلہ سنایا جس میں مینیاپولس پولیس کے سابق افسر 45 سالہ سفید فام ڈیرک شاوین پر فرد جرم عائد کی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیرک پر تین الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی ہے جس میں سیکنڈ اور تھرڈ ڈگری قتل اور قتل عام کے الزامات شامل ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں سابق پولیس افسر کی ضمانت کو فوری طور پر منسوخ کردیا جس کے بعد اسے کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کرلیا گیا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ ڈیرک کو آئندہ 2 ماہ میں سزا سنائے جانے کا امکان ہے اور سابق پولیس افسر کو تقریباً 10 سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

امریکی عدالت کے ججوں نے تین ہفتے سے چلنے والے ٹرائل کا فیصلہ سنایا جب کہ عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالت کے باہر جارج کے حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا۔

جارج فلائیڈ کے اہلخانہ کے وکیل نے عدالتی فیصلے کو امریکی تاریخ کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب عدالتی فیصلے کے بعد امریکی صدرجوبائیڈن اور نائب صدر کمالا ہیرس نے جارج فلائیڈ کے اہلخانہ کو ٹیلیفون کیا۔

امریکی صدر کا عدالتی فیصلے پر کہنا تھا کہ کم از کم انصاف موجود ہے اور انہیں امید ہے کہ اس سے ایک معنی خیز تبدیلی کے لمحات جنم لیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال مینیاپولس میں پولیس افسر ڈیرک شاوین نے اپنا گھٹنا جارج فلائیڈ کی گردن پر رکھا تھا جس سے دم گھٹنے کے باعث اس کی موت واقع ہوئی تھی جب کہ اس واقعے کی ویڈیو شہری کی جانب سے بنائی گئی جس کے سامنے آنے پر امریکا میں شدید احتجاج کیا گیا اور بلیک لائیوز میٹرز کے نام سے تحریک چلائی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں