WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SELECT * FROM YhPGeuvMupviews WHERE user_ip = '3.238.98.214' AND post_id = '4283'

WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SHOW FULL COLUMNS FROM `YhPGeuvMupviews`

اب ATM سے رسید لینے پر ڈھائی روپے کیوں دینے پڑیں گے؟

ملک کے مختلف بینکس اب اے ٹی ایم سے رقوم نکالنے کے بعد مشین سے نکلنے والی ریکارڈ رسید پر ڈھائی روپے وصول کررہے ہیں۔

اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کے بعد ملنے والی وہ رسید جس پر آپ اپنی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ، اکاؤنٹ میں موجودہ رقم اور مزید رقم کی ٹرانزیکشن کی حدود سمیت دیگر ریکارڈ کو دیکھ سکتے ہیں اب اس رسید کو حاصل کرنے پر آپ کو ڈھائی روپے ادا کرنا ہوں گے جو آپ کے اکاؤنٹ سے خود ہی کاٹ لیے جائیں گے جب کہ ان ڈھائی روپے کی کٹوتی کا ریکارڈ رسید پر موجود ہوگا۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے قیاس آرائیاں ہیں اور بعض صارفین کا ماننا ہے کہ بینک اپنی من مانی کرتے ہوئے خود سے یہ پیسے وصول کررہے ہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں کی جارہی ہیں جس کے اثرات ہمیں پاکستان میں بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں کیونکہ ان کوششوں کے تحت پلاسٹک کے شاپرز پر پابندی عائد کی جارہی ہے اور ان کی جگہ ماحول دوست شاپرز متعارف کرائے جارہے ہیں۔

کئی بینکوں نے صارفین کو ایس ایم ایس یا سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ وہ رسید حاصل کرنے کی صورت میں ڈھائی روپے نہیں کاٹ رہے اور نہ ہی انہیں مرکزی بینک کی جانب سے ایسی کوئی ہدایت کی گئی ہے۔

اے ٹی ایم ٹرانزیکشن کی رسید پر یہ ڈھائی روپے کاٹنے کا قدم اے ٹی ایم کا نیٹ ورک چلانے والی کمپنی ون لنک کی جانب سے اٹھایا گیا ہے کیونکہ ون لنک نے ایک مہم ’گو گرین‘ کے تحت یہ قدم اٹھایا ہے۔

کمپنی کے اعلامیے کا عکس

کمپنی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہےکہ بینک صارفین کی جانب سے اے ٹی ایم سے رقوم نکالنے کے بعد کاغذ کی رسید حاصل کرنے کا آپشن ان کے اختیار پر چھوڑا گیا ہے لہٰذا صارفین چاہیں تو مشین سے رسید حاصل کرنے کے لیے ’ہاں‘ کا بٹن دباکر رسید حاصل کرسکتے ہیں جس پر انہیں ڈھائی روپے ادا کرنا ہوں گے۔

کمپنی کا کہنا ہےکہ اس کے علاوہ یہ صارفین پر منحصر ہےکہ وہ رسید حاصل کیے بغیر فری ایس ایم ایس سروس کے ذریعے اپنا ریکارڈ دیکھ سکتے ہیں۔

کمپنی نے اپنی مہم کے حوالے سے کہا کہ ’گو گرین‘ مہم کے تحت یہ اقدام معاشرے میں پرنٹڈ کاغذ کے استعمال کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ صارف عام طور پر یہ رسید ضائع کردیتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق اسٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے رسید لازمی طور پر حاصل کرنے کی کوئی شرط عائد نہیں اور یہ صارفین کا اختیار ہے کہ وہ رسید حاصل کریں یا ایس ایم ایس کے ذریعے اکاؤنٹ کی تفصیل دیکھیں البتہ رسید لینے پر انہیں ڈھائی روپے ادا کرنا ہوں گے۔

دوسری جانب اسی طرح اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کے بعد کاغذ کی اس رسید کے عوض کٹنے والے ڈھائی روپے معاشرے میں کاغذ کے زیادہ استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے ہیں جو اسٹیٹ بینک یا نجی بینکوں کی جانب سے نہیں کاٹے جارہے ہیں۔

اے ٹی ایم سے رسید لینے پر یہ ڈھائی روپے تمام بینک نہیں کاٹ رہے بلکہ ابھی صرف چند بینکوں کی جانب سے ہی ایسا کیاجا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں