WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SELECT * FROM YhPGeuvMupviews WHERE user_ip = '35.172.136.29' AND post_id = '2167'

WordPress database error: [Table 'db821282199.YhPGeuvMupviews' doesn't exist]
SHOW FULL COLUMNS FROM `YhPGeuvMupviews`

آئی جی سندھ کے گھر کا گھیراؤ کرنے والے ادارے وفاق کے ماتحت ہیں: شاہد خاقان

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایف آئی آر کے معاملے پر آئی جی سندھ مشتاق مہر کے گھر کا گھیراؤ کرنے والے دونوں ادارے وفاق کے ماتحت ہیں۔

مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری بہت سے شک و شبہات پیدا کرتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ حکومت چادر اور چار دیواری کو پامال کرنے میں مصروف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیپٹن صفدر پر ایف آئی آر کے حقائق بھی آہستہ آہستہ سامنے آرہے ہیں، وفاق صوبے پر حملہ آور ہوا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیراعظم واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کرتے لیکن انہوں نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ کے گھر کا گھیراؤ کرنے والے دونوں ادارے وفاق کے ماتحت ہیں، آئی جی سندھ پر مقدمہ درج کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، دونوں ادارے وزیر اعظم کو رپورٹ کرتے ہیں، ذمہ داری وزیر اعظم کی ہے، کس نے دو اداروں کو ہدایات دیں، ہدایات صرف اور صرف ملک کا وزیراعظم دے سکتا ہے۔

گورنر سندھ کی قربانی سے کام نہیں چلے گا: شاہد خاقان

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاملات سنگین ہیں، آئین کو توڑا گیا، صوبے کی آئینی اتھارٹی کو پامال کیا گیا، لیکن آئی جی سندھ سارے واقعے کی خود ایف آئی آر درج کرانے سے قاصر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی جی کو چادر اور چاردیواری کا تحفظ پامال کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، امید ہے کہ عدالتیں اس سارے معاملے پر از خود نوٹس لیں گی۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ گورنر سندھ کی قربانی سے کام نہیں چلے گا، ان کا کیا تعلق ہے، وزیراعظم کو جواب دینا ہو گا کہ کیوں اداروں کو استعمال کیا؟

احسن قبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ منہگائی، دوسرا بڑا مسئلہ منہگائی، تیسرا بڑا مسئلہ منہگائی ہے، لیکن عمران نیازی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ن لیگ کے خلاف مقدمات بنانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک اصل کردار عمران نیازی کو قانون کے کٹہرے میں نہ کھڑا کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں